310

اسرائیلی اور فلسطینی عورتوں کا امن مارچ

اسرائیل میں دریا مردار “ڈیڈ سی” سے شروع ہونے والا ہزاروں اسرائیلی اور فلسطینی عورتوں کا دو ہفتوں پر مبنی امن مارچ باآخر اسرائیلی دارالخلافہ یروشلم پہنچ گیا۔

اسرائیلی تنظیم “وومین ویج پیس” کے اہتمام سے شروع ہونے والا امن مارچ جس کو فلسطینی حکومت “فلسطین اتھارٹی” کی حمایت بھی حاصل تھی کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دونوں قوموں کی بہتری کے لیے اسرائیل اور فلسطین کو باہمی رضامند ی سے مثبت اور پر امن مذاکرات شروع کرنے چاہیں۔

30 ہزار عورتوں پر مبنی اس مارچ کو غزہ میں قائم فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے مکمل طور پر نامنظور کیا ہے، جوکہ اسرائیل ساتھ کسی بھی قسم کے امن پر مبنی مذاکرات کی حامی نہیں ہے۔ حماس اسرائیل کے خلاف عسکری قوت پر مبنی کاروائیوں پر یقین رکھتی ہے اور اسی وجہ سے اسرائیل کے اندر دہشتگردانہ کاروائیوں میں مصروف عمل ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کی عوام پرامن کوششوں پر مبنی مذاکرات کی حامی ہے اور اسی وجہ سے حکومت پر دباء ہے کہ وہ ان با مقصد مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

ان عورتوں کا دیرینہ مطالبہ یہ بھی تھا کہ اسرائیلی اور فلسطینی حکومت جلد از جلد کی فیصلہ کن مذاکرات شروع کریں اور دونوں قوموں کی نفرت کو امن اور محبت میں تبدیل کریں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 70 سالوں کی نفرت اور جنگ نے صرف انسانی ، معاشی نقصان اور نفرت کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیا اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ دونوں قوموں کو یکجا کیا جائے۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں