227

اسرائیلی عرب سائنس دان نے پارکنسن بیماری کے ابتدائی تشخیصی ٹیسٹ کے لیے اس کی میڈیکل کٹ تیار کرلی

میڈیکل انسٹیٹیوٹ آف ہبریوں (عبرانی) یونیورسٹی اسرائیل کی پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹ سعاد عبد الہادی نے پارکنسن کی بیماری کا ابتدائی حل تلاش کرکے میڈیکل کی دنیا میں ایک ہلچل مچادی ہے۔ یہ دنیا کی واحد اسرائیلی سائنسدان ہے جس نے اس مہلک بیماری کا ابتدائی حل تلاش کرلیا ہے۔
سعاد عبدالہادی نے 2017 کا تخلیقی ایوارڈ بھی جیتا ہے جو ان کو پارکنسن کی بیماری کی تشخیص کے لیے ایک میڈیکل کٹ تیار کرنے کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔

اس ٹیسٹ سے دنیا کے ان لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جن کو پارکنسن کی بیماری ہے۔ پارکنسن ایک وہ مہلک بیمارے ہے جس سے ذریعے لوگوں کے اعضاء کمزور پڑنے شروع ہوجاتے ہیں اور ان کی یاداشت ختم ہوجاتی ہے۔ اس وقت دنیا میں تقریبا دس ملین کے قریب لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں اور ہر ایک شخص کے علاج پر ایک لاکھ ڈالر سالانہ تک کا بوجھ پڑتا ہے۔

اصل خبر یہاں پر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں