253

اسرائیل کے پاس دنیا کی جدید ملٹری ٹیکنالوجی کیوں ہے ؟

ا بھی اسرائیل کو بنے دو سال ہی ہوئے تھے کہ 1950 میں اسرائیل کا کمرشل وفد شمالی امریکہ پہنچ چکا تھا۔ اسرائیل جانتا کہ اس کے پاس عرب ملکوں کی طرح تیل یا گیس کے قدرتی مسائل نہیں ہیں۔ دنیا اس وقت اسرائیل پر ہنس رہی تھی کہ ان کے وفد کے پاس ارجنٹینا اور دوسرے شمالی ملکوں کو اس وقت کی جدید ٹیکنالوجی کے بدلے دینے کے لیے اورینج کا پھل تھا جو کہ ارجنٹینا میں خود وافر مقدار میں موجود تھا۔ دنیا کے کسی ملک نے یہ سوچا تک نہیں کہ کل جس ملک کے پاس صرف دینے کے لیے اورینج (کنوں) کا پھل تھا آج 68 سالوں کے بعد اس کے پاس دنیا کو دینے کے لیے دنیا کے جدید ترین ملٹری اوزار ہونگے۔

اسرائیل اس وقت دنیا کے ان جدید ممالک میں آتا ہے جو دنیا کو ہاء ٹیک ملٹری اوزار بیچتے ہیں، اس وقت اسرائيل دنیا کو 6.5 بلین ڈالرس کے ہتھیار بیچتا ہے اور یہ دنیا کے جدید ترین ہتھیار اسرائیل خود بناتا ہے۔ مثال کے طور پر 1985 میں اسرائيل دنیا کا واحد ملک تھا جو اس وقت میں جدید ڈرون تیار بناتا او ربیچتا تھا۔ اس وقت اسرائیل کے ہتھیاروں کے خریدار دنیا میں ہر طرف موجود ہیں جن میں سر فہرست روس، ساؤتھ افریقا، فرانس، جرمنی، برازیل اور انڈیا ہے۔

سن 2010 میں ، مثال کے طور پر نیٹو کے پانچ ممالک افغانستان میں اسرائیل کے ڈرون تیارے اڑا کر دشمن کا مقابلہ کررہے تھے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا کہ اتنا چھوٹا ترین ملک کہ تین اسرائيل ایک کراچی شہر میں سما جائيں گے کس طرح دنیا کی جدید ترین ملٹری ہاء ٹیکنالوجی میں سب سے سر فہرست ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کا 4.5 جی ڈی پی صرف ریسرچ اداروں پر خرچ کرتا ہے۔ اس سے دوگنا وہ اکنامک اور ڈولپمنٹ پر خر چ کرتا ہے ۔ اور تو اور وہ ملک ٪30 اپنے جدید ترین ہتھیاروں کے تیاری پر خرچ کرتا ہے برعکس اس کے کہ جرمنی صرف ٪2 اور امریکہ صرف ٪17 ہتھیاروں پر خرچ کرتا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس وقت وہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ابھر کر سامنے آیا ہے۔

اس کے بر عکس دنیا کے 22 امیر ترین عرب ممالک کے پاس سواء اپنا مال عیاشیوں پر لٹانے اور ایک دوسرے کا خون بہانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں