173

ایلیاہ اور اسرائیل

یہودی دنیا کے مختلف حصوں میں آباد تھے۔ سب سے پہلے 1881 میں وہ عیسائیوں کے مذہبی تشدد سے بچنے کے لیے ان علائقوں میں پناہ گزیں ہوئے جنہیں آج اسرائیل کہا جاتا ہے۔ یہودیوں کی اس نقل مکانی کو عبرانی میں “ایلیاہ” کہا جاتا ہے۔ ایلیاء کی دوسری وجہ موشےہیس کے سوشلسٹ صیہونی نظریات تھے- یہودیوں نے عثمانی حکومت کے کار پردازوں اور عرب زمینداروں سے اراضی خریدلی اور بستیاں بسا کر کھیتی باڑی کرنے لگے۔ جس کے بعد مقامی عربوں کے ساتھ ان کی کشیدگی بھی رونما ہوئی۔

ایک آاسٹریائی یہودی وکیل تھیوڈور ہرزل نے صیہونی تحریک (زائینسٹ موومنٹ) کی بنیاد رکھی تھی- اس نے 1896 میں “یہودی ریاست” کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی جس میں ایک قومی یہودی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا- 1897 میں اس نے پہلی عالمی صیہونی کانگریس منعقد کی۔

صیہونی تحریک کے نتیجے میں 1904 سے 1914 کے دوران ایلیاہ کی دوسری لہر امڈی اور تقریبا چالیس ہزار یہودی اپنے اصل گھر یعنی ان علائقوں میں جا بسے جنہیں آج ریاست اسرائیل کہا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں