671

ترقی یافتہ اسرائیل اور پاکستانی عوام از مولانا خلیل الرحمن الرحیمی

میرا سابقہ آرٹیکل قاعدِاعظم کا پاکستان اور اسرائیل کا وجود ، اُس آرٹیکل میں ایک بات یہ بھی کی گئی تھی کہ مذاہب اور پولیٹیکل مذاہب، آج کچھ گذارشات پولیٹیکل مذاہب کے تناظر میں ہونے والے نقصانات میں سے چند ایک کا تذکرہ ہوگا.

پاکستان میں ایک پولیٹیکل مذہبی گروہ نے اپنے غازی کے ذریعے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیوں کی طرح چلنے والی تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا جبکہ پاکستان اور انڈیا کی یہ واحد جماعت ہے جس کو اسرائیل میں دعوت دین دینے کی اجازت ہے، پاکستان اسرائیل الائنس کے بارے میں پرنٹ اور سوشل میڈیا کے خبروں میں آنے کے متصل بعد اُس جماعت کو ٹارگٹ کرنا جس کے ارکان کا اسرائیل میں جانے آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، جبکہ دیوبند اسکول آف تھاٹ جو کہ شدت پسند تنظیم پولیٹیکل مذہبی گروہ ہے.

عرصہ قریب سے تبلیغی جماعت کو ایموشنل بلیک میل کرنے کی ہما جہت کوشش بھی کررہے ہیں، میرا سابقہ واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ پاکستان میں لاقانونیت اس اعتبار سے عام ہوچکی ہے کہ جب چاہیے جس کو چاہے گستاخ مذہب کے الزامات سے سرعام مار دیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، ایک پولیٹیکل مذہبی گروہ نے باقی گروہوں کو نظر انداز کر کے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے، کسی شخص کو بھی چند لوگ ملزم بنا کر سرعام سزا دیدتے ہیں.

جبکہ اسرائیل اپنے ایک باشندے کی جان کو (خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو) ہزار جانوں پر ترجیح دیتے ہیں، ایک شہری کی جان کو نقصان پہنچنے پر ہزار شہریوں کا غم مناتے ہیں، پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر گروہ بندیوں کے تالے لگانے اور ایک عالمی پولیٹیکل ایشو کو مذہبی بنانے کی سازش ہورہی ہے جبکہ آج دنیا کا ہر خطہ بد امنی کا شکار اسی پولیٹیکل مذاہب کی وجہ سے ہے،معاشرے کےاجتماعی نظم یعنی نیشنلزم کو خرج مرج نہ ہونے دیں، اخلاقی جرات کے ساتھ انصاف پر کھڑے ہو جائیں ، افسوس صد افسوس کہ ملکی مفاد کو پسے پشت ڈالا جارہا ہے.

حافظ عمر فاروق روزنامہ اوصاف پاکستان میں ہمیشہ اَرتھ کُوئیک کی طرح خبریں چھاپ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں، پاکستان اسرائیل الائنس کی ایجوکیشنل ریفارمز پر مثبت خدمات کو سنسنی خیز بناتے ہوئے پاکستان میں طوفان بدتمیزی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس نے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ خفیہ طور پر نہ صرف امام خمینی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم رکھے، بلکہ بعد کی ایرانی حکومتوں نے بھی اسرائیل سے خفیہ تجارتی تعلقات قائم رکھے ہیں۔

1980سے 1983کے دوران محض تین سالوں میں اسرائیل سے 500ملین ڈالرکا اسلحہ خریدا گیا۔بین الاقوامی جرید بلومبرگ نے2011میں رپورٹ شائع کی جس میں کہاگیا ہے ایرانی آئل کمپنیاں فلٹرنگ کے آلات اسرائیلی کمپنیوں سے خریدتی ہے۔المانیٹرکی2013کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیلی ماہرین ارضیات کو سیستان کے علاقے میں آنے والے زلزلے کے مرکزی جگہ کا وزٹ کروایا تھا۔آج دنیا میں یہودیوں کی ترجمانی اسرائیل کررہاہے، اور پاکستان میں زائنیسٹ فیڈریشن سے ملنے والی سوچ کے ترجمان اپنے آپ کو پاکیزہ مسلم کہلاتے ہیں جو کہ کسی سے نفرت نہیں کرتے۔ پاکستان میں حافظ عمر فاروق کو شدت پسند کالمسٹ گروہ کا سرغنہ مانا جاتا ہے.

شدت پسند مذہبی پولیٹیکل جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے حافظ حسین احمد، جمیعت علمائے اسلام کے رہنما پاکستانی عوام کو پاکستان اسرائیل الائنس سے ڈرا کر نوبل پیس مشن سے دور کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کے تمام صحافی بھائیوں اور کالمسٹ حضرات کو ہائی جیک کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں اور ایک مخصوص لابی عوام کو ڈرا دھمکاکر پاکستان اسرائیل الائنس کی سابقہ امن پسند خدمات اور ایجوکیشنل ریفارمز کو جو کہ ملکی مفاد میں ہیں انکو دبانے کی کوشش جارہی رکھے ہوئے ہیں، پاکستانی اور اسرائیلی اقوام کا شمار دنیا کی بہادر قومیں میں کیا جاتا ہے، انکے مابین نفرتیں ختم کرنے کی کوشش غظیم کارنامہ شمار ہوگا، مذکورہ آرٹیکل کی مزید گزارشات آئندہ مضمون میں ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں