414

ترکی اپنی سرحد پر سکیورٹی دیوار بنا رہا ہے تو اسرائیل پر تنقید کیوں؟

ایرانی حکام نے منگل کو بتایا کہ ترکی نے ایران کے ساتھ اپنی سرحد پر ایک “سکیورٹی دیوار” کی تعمیر شروع کردی ہے، جس کا مقصد کردش علیحدگی پسندوں کو روکنا ہے۔
ترکی حکام نے مئی میں 144 کلومیٹر (80 میل) لمبے رکاوٹ کی تعمیر کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد کالعدم کردستان ورکز پارٹی (پی کے کے) کے کارکنوں کی سرحد پار دہشتگردی کو روکنا ہے۔ ترکی اور ایرانی سرحد تقریبا 500 کلومیٹر ہے۔

سن 1980 سے پی کے کے نے ترکی کے اندر بغاوت جاری رکھی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے انقرہ اور اس کے مغربی ممالک کے نزدیک وہ ایک دہشتگرد گروپ ہے۔

اب یہاں زیر غور بات یہ ہے کہ یہاں انٹرنیشنل کمیونٹی، عرب ممالک اور پاکستان کیوں خاموش ہے؟ جب اسرائیل نے اپنے عوام کی حفاظت کی خاطر اور ملک کے اندر خود کش حملوں کو روکنے کے لیے غزہ اور غرب اردن کی سرحد پر سکیورٹی دیوار بنائی ہے تو پوری دنیا بشمول اسلامی دنیا کے اسرائيل پر شدید تنقید کی جاتی ہے اور اس ملک کو ہٹلر اور نازی سے تشبیح دی جاتی ہے۔
حالانکہ اس طرح کی دیوار بہت سے ممالک نے سکیورٹی کے خاطر بنائي ہوئے ہے اور حال ہی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکہ میسکیکو کی سرحد پر بھی دیوار بنانے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور امریکہ عوام اس دیوار کے حق میں ہے۔

اسرائیلی عوام کے نزدیک یہ ایک منافقانہ طرز عمل ہے کہ جو کام دوسرے مغربی اور اسلامی ممالک کریں تو عوام کی حفاظت کہ کر اس کی حمایت کی جاتی ہے اور جب یہ ہی عمل اگر اسرائیل کرتا ہے تو اس کو دہشتگرد ملک کے طور پر گردانا جاتا ہے۔

یہ کھلا تضاد صرف اس لیے ہے کہ وہ ایک یہودی قوم ہے اور دنیا اس ملک کو اسی بنیاد کی بناء پر نفرت کرتی ہے۔

خبر کا اصل ماخظ

بشرکیہ فاران جعفری (نیوز ایڈیٹر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں