539

تنہائی کا شکار۔۔۔کون ؟ – تحریر ۔عظیم بٹ

یو ۔این۔اوایک ایسی اہمیت کا حامل ادارہ ہے۔جہاں دنیا بھر کے وہ ممالک جن کو اس پر بے انتہا تحفظات ہیں۔اس کے باوجود تمام ممالک اس دوڑ میں ہوتے ہیں کہ یہاں اپنا موقف بیان کر کے دنیا بھر میں بتائیں اور دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اور مثبت اثرات مرتب کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک پر عالمی سطح پر تنقید بھی کر سکیں۔ جن سے ان کے ذاتی سیاسی یا معاشی اختلافات ہیں۔ بعض ممالک لابی بنا کر کسی ایک ملک کو تنہائی کا شکار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ کچھ ممالک دوسرے ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہوتے ہیں۔ مگر تمام کے لئے یو۔این۔اوکا مقام اہم اور کارآمد ہے۔

اب کچھ موضوع پر بحث کرتے ہوئے میں پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات اور ناراضگی کی طرف آتا ہوں۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ دنیا میں تمام ممالک اور انسان اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ شاید اس میں برائی بھی نہیں اور وقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اور یہی صورتحال پر میں اکثر تبصرہ کرتا آیا ہوں کے پاکستان اور اسرائیل کو بھی اپنے مابین اسی مفادات کی پالیسی کو نظر میں رکھتے ہوئے رنجشوں کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک دنیا میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ اسرائیل کی ٹیکنالوجی پاکستان کی صلاحیت کو پیش نظر رکھا جائے تو دنیا کو نئی ترقی کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے گی ۔ برعکس اس کے اگر دنیا کے اس وقت میں جب امن اور باہمی تعاون کے علاوہ اپنا مقام بنانا نہایت مشکل ہے۔ایسے دور میں اگر ہم نے اب بھی کھینچا تانی والی پالیسی ہی رکھی تو ہمیں اس بات کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کہ جس اسرائیل کو پاکستان نے برسوں میں ریاست تسلیم نہیں کیا۔اس کو دنیا بھر میں تنہا اور متنازہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔اس اسرائیل کی تنہائی تو آج کے دور میں نظر نہیں آتی کیوں کہ ہمارا پڑوسی ملک ہو یا وہ ممالک جن کی دی ہوئی امدادی بھیک سے ہم ملک کی بھاگ ڈور چلاتے ہیں۔یہ تمام ممالک اسرائیل کی جانب راغب ہیں ۔اپنے تعلقات ان سے بہتر رکھے ہوئے ہیں۔اور اسرائیل کی صلاحیت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔البتہ دوسری جانب اگر اپنے ملک پاکستان کی جانب نظر دوہرائی جائے تو تنہائی کا شکار ہم ہیں۔ہماری حکومت ہماری فوج کی لازوال قربانیوں کے باوجود آج بھی دنیا ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کرتی ہے۔
ہم دنیابھر میں آج تنہائی کا شکار ہیں۔ دہشت گردی کا دنیا بھر میں کہیں بھی ذکر آتا ہے تودماغ میں پاکستان کا نام آتا ہے۔آج دنیا کے ممالک کھیلوں کے لئے اپنی ٹیم بھیجتے گھبراتے ہیں۔ ہماری باتوں اور حکومت کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

ہم چلے تھے جسے تنہا کرنے اسی اسرائیل کو آپ کے باقی تمام مسلم ممالک تسلیم کرتے ہیں۔سعودی عرب جو مسلمانوں کا مرکز کعبہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے ہے اور رہے گا۔آج وہ بھی اسرائیل کے متعلق اس حد کی رنجش نہیں رکھتا جیسی صورتحال ھمارے ہاں بنا دی گئی ہے۔جس کا خمیازہ ہم دنیا بھر میں بھگت بھی رہے ہیں۔لہٰذا ہمیں اپنی پالیسی کو نرم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اگر دنیا بھر میں اور یو۔این ۔او پاکستان کو اپنی پوزیشن مستحکم کرنی ہے۔اور دیگر ممالک کی طرح دنیا کے ساتھ ساتھ ترقی کی رفتار کو تھامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں