140

حماس اور فلسطین اتھارٹی کی دس سال کے بعد صلح

بالآخر حماس اور فلسطینی اتھارٹی نے دس کے بعد مصلحت پسندانہ ڈیل کردی۔ مصر کی سربراہی میں اس تاریخی ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ۔

حماس اور پی اے (فلسطین اٹھارٹی) نے دس سال پہلے 2007 میں خونی لڑائی کے بعد ہر قسم کا تعلق ختم کردیا تھا، اور ان کا کوئی بھی فلسطینی ایک دوسرے کے علائقہ میں نہیں جاسکتا تھا، یوں کہیں کہ دونوں ویسٹ بنک (غرب اردن) اور غزہ کے علاقے ایک دوسرے کے مکینوں کے لیے علائقہ غیر بنے ہوئے تھے۔ دونوں علائقوں کی حکومت ایک دوسرے کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی تھی ۔

غرب اردن کی حکومت ( فلسطین اتھارٹی) جس کا موجودہ سربراہ محمود عباس اور سابقہ سربراہ یاسر عرفات تھے نے 1994 کو ایک امن معاہدہ میں اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور غزہ کی حکومت جس پر حماس کا قبضہ ہے نے اس امن معاہدہ کی شدید مخالفت کی تھی اور ابھی تک اس پر قائم ہے۔

اس تازہ مصالحاتی عمل کے ذریعہ پی اے (فلسطینی اتھارٹی) کے حکومت غزہ میں اپنے تین ہزار (3،000) سکورٹی اہلکار تعینات کرے گی اور سکیورٹی انتظامات اپنے ہاتھوں میں لے گی اور دونوں اس بات پر بھی راضی ہوئے ہیں کہ ان علائقوں میں فوری طور پر نئے الیکشن کا انعقاد کروایا جائے گا۔

اس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انیس ہزار (19،000) حماس کے سکورٹی اور پولیس اہلکاروں کا کیا ہوگا اور ان کو کہاں تعینات کیا جائے گا او ریہ کہ کیا دونوں کی ملی حکومت اسرائیل پر غزہ سے دوبارہ حملہ کرے گی اگر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون سے حکومت لے گی، حماس یا پھر پی اے۔

اگر اچھا ہوتا کہ حماس اور پی اے اسرائیل کے ساتھ ایک ہی میز پر مل بیٹھ کر پر امن مذاکرات کرتے جس کا فائدہ دونوں قوموں کو ہوتا، خیر یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں