417

سازشی کون ؟ از عظیم بٹ

موجودہ عالمی تناظر میں تمام ممالک نفسہ نفسی کا شکار ہیں اور اس کا فائدہ بخوبی کچھ عناصر عالمی سطح پر کشیدگی پیدا کر کے اٹھا رہے ہیں چاہے وہ کشیدگی سیاسی ہو سماجی ہو ثقافتی ہو یا پھر مذہبی، جہاں دنیا بھرپور ترقی کیلئے آپس میں مل بیٹھ رہی ہے اور اپنے کئی سالوں اور صدیوں کے اختلافات ختم کر رہی ہے اور مشترکہ طور پر ہر قسم کی ترقی و خوشخالی کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہے وہیں عالمی سطح پر مسلم ممالک کی واحد اسلامک ایٹمی پاور پاکستان اپنے اندرونی معاملات سیاسی سماجی اختلافات اور سول اور فوجی کشیدگی میں الجھ کر رہ گیا ہے وہیں اپنے سرحدی حریف ہندوستان پر اور اس کے مستقبل کے ارادوں اور پلاننگ کو نظر انداز کیے ہوے ہے۔

اسرائیل جسے پاکستان نے اب تک ایک ریاست کے طور پر قبول نہیں کیا اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں مگر یہ بات ته شدہ ہے جیسے افغانستان، ایران اور ہندوستان میں امن لائے بغیر پاکستان میں امن نہیں آ سکتا بلکل ایسے ہی اسرائیل سے تعلقات بہتر کیے بغیر دنیا میں ہم یورپ اور امریکہ سے کھل کر بات نہیں کر سکتے۔

اس کے لئے کچھ دو کچھ لو کی پالیسی اپنانی ہو گی۔ یونائیٹڈ نیشن کا ادارہ اور اس میں پاکستان کی اہمیت کو بلند کرنے اور اپنے مطالبات تسلیم کروانے، چاہے کشمیر کا معاملہ ہو یا افغانستان یا بلوچستان، اپنے موقف کو منانے کے لئے ڈپلومیٹک طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ہندوستان نے اپنایا ہوا ہے۔ اس کے وزیر اعظم کی اسرائیل جانے اور ڈپلومیٹک تعلقات بڑھانا ہندوستان کا فائدہ ہے ہمیں بھی چاہے اپنے فائدے کی خاطر اپنی موقف کو یونائیٹڈ نیشن میں فوقیت دینے کی خاطر عالمی تناظر اور حالات کے پیش نظر دنیاکے جھکاؤ کو سمجھا جائے اور جب ہمارے ملک میں عدالتیں نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دے سکتی ہیں تو عالمی سطح پر ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کی خاطر اور دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔

ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ہماری اہمیت اور فوقیت کو منانے کے مترادف ہے کہ ہم ملک میں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے بھی کشیدگی کم کریں اور دوسری طرف اسرائیل کو بھی چاہیے پاکستان سے گفتگو کے لئے اور حالات کو بہتر کرنے کے لئے ویزا پالیسی کے ساتھ ساتھ اپنے رویے میں نرمی لائے اور دونوں ممالک اپنے تحفظات دور کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں کیوں کہ پاکستان دنیا کی ایک حقیقت ہے اور دوسری طرف دنیا کی بدلتی رت میں اسرائیل بھی دنیا میں اپنا مقام اور کردار کافی حد تک بنا چکا ہےاور دونوں کو نظر انداز کرنا دنیا کے لئے ممکن نہیں نہ ہی دنیا بھر میں ان کے بغیر امن قائم ہو سکتا ہے، اب اگر کوئی بھی اس حقیقت سے اجتناب کرے تو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ ملک میں امن لانے کی خاطر ایسا اقدام اٹھانے پر روکنے والے کے پیچھے آخر سازشی کون!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں