176

صوفی بزرگ بابا فرید کا یروشلم میں قیام

یہ دراصل ایک سرائے ہے۔ صوفی بزرگ بابا فرید نے تقریباً آٹھ سو برس قبل اسی سرائے میں قیام کیا تھا۔ اس سرائے کے ایک چھوٹے سے کمرے میں وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ گذشتہ سو برس سے اس سرائے کی دیکھ بھال انڈیا کا ایک خاندان کر رہا ہے۔ اس خاندان کے بزرگوں کا تعلق انڈین ریاست اترپردیش کے سہارن پور شہر سے تھا۔

بابا فرید لمبے عرصے تک اس شہر میں رہتے رہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ یہاں سے انڈیا کب واپس لوٹے۔

یہ سلسلہ پہلی جنگ عظیم تک جاری رہا۔ اس درمیان مسجد اقصیٰ اور شہر کی دوسری اسلامی عمارتوں کی حالت اچھی نہیں تھی۔ ان دنوں عرب ممالک بھی غریب تھے۔ اگر دولت تھی تو بھارتی نوابوں اور سلطانوں کے پاس۔

اسی لیے سنہ 1923 میں یروشلم کے مفتی نے کچھ افراد کو انڈیا رقم لینے بھیجا۔ انڈیا کی آزادی کے لیے لڑنے والے محمد علی جوہر نے اس کام میں ان کی مدد کی۔

وہ کمرا جس میں بابا فرید رہا کرتے تھے وہ کافی چھوٹا ہے۔ لیکن شاید بابا فرید کو اس سے بڑے کمرے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ بیشتر وہ اس کمرے کے تہہ خانے میں عبادت کیا کرتے تھے۔

اس سرائے پر انڈیا کا مالکانہ حق ہے۔ آج بھی اس جگہ کو دیکھنے کے لیے انڈیا سے نامی ہستیاں آتی ہیں۔ انڈیا سے آنے والوں کے لیے یہاں چھ کمرے بھی ہیں جن میں وہ قیام کر سکتے ہیں۔

یروشلم میں کئی جنگیں ہوئیں اور یہ شہر کئی بار اجڑا۔ لیکن انڈیا اور بابا فرید سے منسوب یہ کونا 800 سال بعد بھی آباد ہے۔

یہ خبر بی بی سی اردو سے لی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں