347

صیہونیت کیا ہے؟

صیہونیت وہ نام ہے جو یہودی لوگوں کی قومی آزادی کی تحریک کو دیا گیا تھا، جو 2000 سال کی جلا وطنی اور زور و ستم کے بعد خود مختار یہودی زندگی اور سرزمینِ اسرائیل کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جہاں رومنوں نے پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں بہت سے یہودیوں کو جوڈیا سے نکال دیا تھا، وہاں ہر دور میں ارضِ مقدس میں یہودی موجود رہے جو یروشلم، طبرئیس، اور ہیبرون جیسے مقدس شہروں کے اردگرد آباد تھے۔ سرزمینِ اسرائیل …… صیہون …… یہودیوں کی مذہبی، تہذیبی اور قومی زندگی کا جزوِ لاینفک رہی ہے اور دنیا بھر کے یہودیوں کی دعاؤں اور اعمال و افعال میں موجود رہی ہے۔
جدید صیہونیت سامیت دشمنی …… یہودیوں سے نفرت …… کا ردِ عمل تھی۔ ازمنہئ وسطیٰ کے یورپ میں یہودیوں پر ظلم و ستم مستقلاً روا رکھے جاتے تھے۔ جدید عہدمیں سامیت دشمنی نے نئی صورتیں اختیار کر لیں جیسے یہ ایقان کہ یہودی نسلی اعتبار سے کم تر ہیں یا یہ کہ وہ ایک عالم گیر سازش میں ملوث ہیں۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں یورپ میں یہودیوں کا قتلِ عام کیا گیا جس کی انتہا ”ہولوکاسٹ“ تھی جس کے دوران نازیوں نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا تھا۔

سن 1948ء میں ریاستِ اسرائیل کا قیام صیہونیت کے اس مرکزی سیاسی مقصد کا حقیقت بننا تھا کہ یہودی لوگوں کے لیے ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ، قانونی طور پر محفوظ وطن حاصل کیا جائے جہاں یہودی ظلم و ستم سے آزاد ہوں اور اپنا قومی تشخص تشکیل دے سکیں۔

صیہونیت کو ”نسل پرستی“ قرار دینا سراسرغلط ہے۔ یہ الزام بذاتِ خود امتیازی ہے کیوں کہ یہ یہودی لوگوں …… اور صرف یہودی لوگوں …… کی قومی خود اختیاری کے حق کو رد کرتا ہے۔ قوم ہونا اپنے تشخص کا خودتعین کرنا ہے، اسے خارج سے منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی: یہودی خود کو ایک قوم مانتے ہیں، لہٰذا دوسرے لوگ یہودیت کو محض ایک مذہب سمجھیں تو یہ امرقطعی غیر متعلق ہے۔ (اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلسطینی ایک قوم نہیں ہیں، وہ بالکل غلط کہتے ہیں)-

بہت سے یہودی جو ریاستِ اسرائیل کے قیام سے پہلے فلسطین آ کر آباد ہو گئے تھے، وہ یورپ کے مختلف حصوں سے ظلم و ستم سے بچ کر پناہ گزیں کے طور پر آئے تھے۔ وہ مقامی آبادی کو محکوم بنانا نہیں چاہتے تھے بلکہ انھیں تو امید تھی کہ کثیر تعداد میں آنے والے یہودی تارکینِ وطن کی وجہ سے علاقے کے تمام باشندوں کی زندگیاں بہتر ہو جائیں گی۔ یہودی فلسطین میں بزور داخل نہیں ہوئے تھے بلکہ انھوں نے قانونی طور پر زمین خریدی تھی اور بہت سی نئی آبادیاں تعمیرکی تھیں۔

مرکزی دھارے کے صیہونیوں کا ہمیشہ یہ ایقان رہا ہے کہ غیریہودی اقلیت یہودی لوگوں کے ساتھ مکمل اور مساویانہ حقوق کے حامل شہریوں کے طور پر رہے گی۔ یہ اصول 1948ء میں اسرائیل کے اعلانِ آزادی میں شامل کیا گیا تھا، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ ریاستِ اسرائیل کے عرب باشندوں کو “مکمل اور مساویانہ شہریت اور اس کے تمام عارضی اور مستقل اداروں میں جائز نمائندگی حاصل ہو گی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں