417

ناجائز تعلقات اور اسرائیل از عظیم بٹ

کچھ الفاظ معاشرے میں دماغی توازن اور سوچ کے پیمانے کو بعض دفع ایسی جگہ لے جاتے ہیں جہاں درحقیقت اس کی ضرورت تھی ہوتی نا ہی ان الفاظ کا مقصد وہ ہوتا ہے جو سوچا اور سمجھا جاتا ہے۔ ایسا ہی ہمارے مشرقی علاقے میں ناجائز تعلقات کو لمحہ کی تاخیر کیے بنا جنسی تعلقات کی جانب دکھیل دیا جاتا ہے ۔ درحقیقت ناجائز مراسم صرف دو جسموں کے درمیان نہیں بلکے دو ممالک دو گروہوں دو اداروں کے درمیان بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے بھی ہیں۔

موجودہ ملکی تناظر میں بلکے روز اول سے کچھ ممالک ہمارے ہاں ایسے سمجھے اور سمجھائے جاتے ہیں جن کا نام لینا جن کی بات کرنا اور جن سے مراسم رکھنا ناجائز سمجھا جاتا ہے ۔جیسا کہ ہمسایہ ملک انڈیا جیسا کہ موجودہ سپر پاور امریکہ اور اسی طرح سپر پاور کا ایک حصہ جسے اسرائیل کہا جاتا ہے ۔ پاکستان میں اسے ریاست تسلیم کرنے اور اس سے تعلقات رکھنا ناجائز اور حرام قرار دیا جاتا ہے ۔
ملک اور سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے علاوہ مخصوس مولوی گروپ ہے جو کہ اس پر بے تحاشا سیاست کر کے اپنے تمغے چمکتا ہے۔ جب کہ خود وہ لوگ اور ان کی پشت پناہی ایسے لوگ کرتے ہیں جو روز اول سے پاکستان میں غدار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن کے جانشین میڈیا پر برملا اظہار کرتے ہیں کہ ہم آج بھی فخر سے کہتے ہیں کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے ۔

استغفراللہ اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے دینی مدارس میں سے اسلحہ برآمد ہوتا رہا ہے جن کے مولوی برقع پہن کر بھاگتے رہے ہیں جو خود ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں ۔وہ آج ملک میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کے انڈیا سے اور خاص طور پر اسرائیل سے تعلقات بہتر نہیں بننے چاہیے ۔جو خود کسی ناجائز تعلقات کی بنا پر ملک دشمن عناصر کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔جن کو طالبان اپنے نمائندہ کہتے ہیں۔وہ ملک کی سلامتی اور مفاد کی بات کرتے ہیں۔

یہ مفاد پرست ارکان مفاد اپنا نام عوام کا کر کے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے اور دنیا سے تعلقات بہتر بنانے اسرائیل سے برسوں کے معاملات کو بیٹھ کر حال کرنے اور دنیا میں اپنا اور ملک کا عالمی سطح پر مقام بنانے کے خلاف کیوں ہیں؟ یہ ان کے کون سے خطرناک عزائم ہیں یہ ان کے کون سے ناجائز مراسم ہیں اور کس سے ہیں ۔

اور اپنے مطالبات تسلیم کروانے یونائیٹڈ نیشن میں اپنا مقام بنانے اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کے ارادے سے دنیا میں ترقی اور امن کی راہ میں پتھر رکھے کھڑے ہیں ۔جب کہ دنیا کا اصول ہے کہ کوئی بھی ملک کسی بھی ملک سے تعلقات صرف اپنے مفاد کے لئے رکھتا ہے۔ تو اپنے مفادات کی خاطر ہمیں پرانی رنجشیں اپنے مطالبات تسلیم کروا کر ختم کرنی چاہئے۔ تا کہ ملک میں امن کی صورت حال قائم ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں