1,955

نور ڈاہری کا دورہ اسرائیل اور پاکستان کا مستقبل

پاکستان اسرائیل الائنس کے بانی اور پاکستان اسرائیل نیوز کی چیف ایڈیٹر جناب نور ڈاہری کا تازہ دورہ اسرائیل سب سے کامیاب دورہ ثابت ہوا۔ اسرائیل کے اندر ان کو وہ پروٹوکول مہیا کیا گیا جوکہ کسی ملک کے آفیشل وفدکو فراہم کیا جاتا ہے۔ ایئرپورٹ سے لےکر کانفرنس تک اور کانفرنس سے لےکر دورہ یروشلم تک ان کو اور ان کے پاکستانی وفد کو خصوصی پروٹوکول مہیا کیا گیا تھا۔

نور ڈاہری نے اسرائیل میں اپنے ملک پاکستان کی بھرپور انداز میں ترجمانی کی اور اس ترجمانی کی جھلک ان کے اسرائیلی ٹی وی انٹرویو زمیں نمایاں نظر آئی۔
جناب نور ڈاہری دنیا کا واحد پاکستانی ہے جن کو اسرائیل میں سیاسی سطح سے لےکر فوجی اور انٹیلی جنس سطح پر بریفنگ دی گئی اور خصوصی میٹنگز میں مدعو کیا گیا ۔ نور ڈاہری نے پاکستان کو ایک یکساں انداز میں پیش کیا اور جہاں پاکستان کی کمی تھی انہوں نے ادھر اس کمی کو مکمل کیا۔

پاکستان اور اسرائیل کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی پاکستانی کو اسرائیل کی قومی میڈیا نے اتنے بھرپور انداز میں کوریج دی۔ جناب نور ڈاہری نے اسرائیل کے ٹی وی چینلز کو تقریبا 5 مرتبہ انٹرویوز دیے، فرانس کے ٹی وی چینل اور جرمنی کے ٹی وی چینل کو ایک ایک مرتبہ انٹرویوز دے اور دنیا کے ان گنت اخباروں میں ان کے انٹرویوز شایع کیے گئے۔

جناب نور ڈاہری کو یہ عزت اور مقام ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے دیاگیا کیونکہ انہوں نے اس ملک میں پاکستان کا نام روشن کیا جس ملک کو پاکستان نے کبھی تسلیم نہیں کیا، ہر تقریب ، میٹنگ اور انٹرویو میں انہوں نے پاکستانی جھنڈے کا لیپل پن اپنے سینے پر چپساں کیے رکھا۔ اور اسی طرح انہوں نے دنیا کے پہلے پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا جنہوں نے اسرائیل میں اپنے ملک پاکستان اور اس کے جھنڈے کو سرخرو کیا۔

اپنی ایک ٹی وی انٹرویو میں جناب نور ڈاہری نے اسرائیلی ہوسٹ کے اس سوال پر کہ “امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے ملک کے اند دھشت گردوں کی پناہ گاہوں کو فوری بند کرے، اس پر آپ کے کیا تاثرات ہیں”؟ جواب نے اس طرح سے دیا:
“پاکستان نے پچھلے 17 سالوں میں بے پناہ قربانیاں دی ہے اور 11/9 کے بعد سے لے کر اب تک پاکستانی قوم نے ایک لاکھ جانوں کا نقصان اٹھایا ہے اور ان میں 10 ہزار کے قریب فوجی جن میں جوان سے لےکر فوجی جرنیل تک شامل ہیں اور ہماری ان قربانیوں کو امریکہ اور یورپ سمیت پوری دنیا سے قبول کیا ہے اور اس سے زیادہ ہم کیا کرسکتے ہیں”۔

جناب نور ڈاہری نے اس سوال کا جواب جس احسن انداز میں پیش کیا کہ اسرائیلی ٹی وی کی ہوسٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ “ہاں پاکستان نے اس جنگ میں ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی ہے”۔

اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار کسی پاکستانی نے اسرائیلی میڈیا میں اپنے ملک کا جس انداز میں دفاع کیا اس کی مثال دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے۔

انٹرنیشنل ٹیررازم کانفرنس میں جناب نور ڈاہری کو ایک احساس شدت سے ستاتا رہا کہ ادھر ہندوستانی لابی پچھلے دس سالوں سے پاکستان کے خلاف کام کررہی تھی اور پاکستان کی کوئی بھی ٹیم اپنے ملک کا دفاع کرنے وہاں موجود نہیں تھی۔ یہ کمی نور ڈاہری نے اس انداز میں دور کی کہ انڈین جنرل اشوک ملہوترا نے جب ایک تقریر میں پاکستان پر دھشت گردی کے الزام کی بوچھاڑ کردی تو جناب نور ڈاہری سے رہا نہ گیا اور انہوں نے کھڑے ہوکر ہندوستانی فوجی جرنیل کو ٹوکا او ریاد دلایا کہ “یہ مت بھولیں کہ کراس بارڈر دھشت گردی کا سب سے زیادہ شکار پاکستان ہوا ہے اور اسی کراس بارڈر دھشت گردی سے پاکستان نے ایک لاکھ معصوم لوگوں کی قربانیاں دی ہیں اور دنیا نے ان قربانیوں کا اعتراف کیا ہے اس لیے یہاں ہم سب مل کر دھشت گردی کو کاؤنٹر کریں نہ کہ آپس میں ملکوں کو “۔ ان کے اس جواب سے ہندوستانی جرنیل خاموش ہوگیا اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

جناب نور ڈاہری نے اسرائیل کے اندر موجود ہوکر جس انداز میں ہندوستانی جرنیل کو للکارا اس کی مثال آج تک اسرائیل اور پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ نور ڈاہری بارہا اس بات کا برملا اظہار کرتے رہے کہ کاش پاکستانی وفد یہاں موجود ہوتا اور اسرائیل میں دنیا سے آئے ہوئے حکومتی وفود کو اپنے ملک کی دی ہوئی قربانیوں سے آگاہ کرتا۔
جناب نور ڈاہری کا اگلا مشن یہ ہے کہ اگلے سال اسرائیل میں برطانیہ سے پاکستانی وفود کی نمائندگی کرے اور اس خلا کو بھرپور انداز میں پر کرے جو کئی برسوں سے خالی پڑا ہے اور اس کا فائدہ اس کے روائتی حریف ہندوستان بھرپور انداز میں لے رہا ہے۔

آئیے مل کر جناب نور ڈاہری کا ساتھ دیجیے اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیے کہ وہ صحیح اور بھرپور انداز میں اسرئیل کے اندر دنیا سے آئے ہوئے حکومتی وفود کو پاکستان کا موقوف پیش کرسکے۔ ان شاءاللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں