465

پاکستان اسرائیل الائنس کا نظریہ اور گمنام پاکستانی صیہونی

کچھ عرصے سے ہم بے تحاشہ سوالات وصول کررہے ہیں کہ اس تنظیم کے قائم کرنے اور پاکستانی صیہونی بننے کا مقصد، شرائط و عزئم کیا ہیں؟ اور انہی سوالات کو مد نظر رکھ کر ہم نے یہ مضمون ترتیب دیا ہے۔

تقریبا ڈیڑھ سال پہلے ستمبر 2016 کو زائنسٹ فیڈریشن یو کے (صیہونی آرگنائیزیشن) کے تعاون سے پاکستان اسرائیل الائنس کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بانی و ڈائریکٹر پاکستانی مسلم صیہونی نور ڈاہری ہیں۔ اس معاملے پر ہم کافی کشمکش کا شکار تھےکہ جس سیاسی ( پولیٹیکل ) نظریہ کو ہم پاکستان میں لے کر آرہے تھے اس کا کوئی ٹھوس مقصد ہو، ایک منظم پلیٹ فارم ہو جس کے تحت اس قوم کے اندر ایک نیا امن پسندانہ نظریہ پیدا کیا جائے کہ یہ قوم شدت پسندانہ عوامل سے باہر نکل کر دنیا میں ایک منظم اور امن پسند قوم گردانی جائے۔ اس الائنس کو قائم کرنا ، آہستہ آہستہ ہر چیز کو مدنظر رکھ کر چلانا اور سوشل میڈیا میں اس کو فروغ دینا آسان کام نہیں تھا مگر پھر بھی ہم نے اس کام کو جاری رکھنے کا عہد کرلیا تھا۔

اللہ کے فضل و کرم سے اور اس کے بعد تنظیم کے بانی نور ڈاہری کی لگن اور انتھک کاوش کے بدولت یہ تنظیم پاکستان میں آہستہ آہستہ پاؤں جمارہی اور اپنا مقام پیدا کررہی ہے۔ پاکستان اسرائیل الائنس جس کا اولین مقصد یہ ہے کہ دونوں ملکوں (پاکستان اور اسرائیل) اور دونوں قوموں (پاکستانی و اسرائیلی) کو قریب سے قریب تر لایا جائے اور جو لوگ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کررہے ہیں یا پھر بغیر شمولیت کے اس مشن کو سپورٹ کررہے ہیں وہ “مسلم /پاکستانی صیہونی” کہلائے جاتے ہیں۔ ان ڈیڑھ سالوں میں سیکڑوں کی تعداد میں گمنام پاکستانی اس تنظیم کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کے کوائف و شمولیت کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ان گمنام صیہونیوں میں طلباء، استاذہ، سیاست ، میڈیا ،پاکستانی اسٹیبشمنٹ ، این جی اوز ، پرائیویٹ ، حکومتی اداروں اور دوسرے سماجی اداروں سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔ یہ وہ گمنام صیہونی ہیں جو پس پردہ دونوں ملکوں کے مابیں ایک امن پسندانہ تعلق پیدا کرنے کی تنگ و جو لگے رہتے ہیں اور انہی گمنام پاکستانی صیہونیوں کی بدولت اس تنظیم کا نظریہ اور مشن قائم اور جاری و ساری ہے۔

ان لوگوں میں مذہبی، غیر مذہبی، مسلم، غیر مسلم اور ملحدشامل ہیں۔ پاکستان اسرائیل الائنس میں شمولیت کے لیے کسی بھی مذہب یا فرقے کی پابندی نہیں ہے۔ اس کے اندر جو لوگ شامل ہوچکے ہیں ان کا تعلق اسلام کے مختلف مسالک اور دنیا کے مختلف مذاہب کے ساتھ ہے۔
٭ سنی ٭ شیعہ ٭ قادیانی ٭ عیسائی ٭ ہندو ٭ یہودی ٭ ملحد

اس تنظیم کے لوگوں پر چند شرائط لاگو ہوتی ہے اور جو بھی ان شرائط کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ چند شرائط مندرجہ ذیل ہے۔
٭ تمام مذاہب کا احترام ٭ تمام مسالک کا احترام ٭ اسلام کے خلاف کسی بھی قسم کی ہرزہ رسائی نہیں ٭ پاکستان کی سلامتی کے معاملے میں کوئی بھی سودے بازی نہیں ٭ اسرائیل اور اسرائیلی قوم کے وجود کو دل کے ساتھ قبول کرنا ٭ یہودیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی ہرزہ رسائی نہیں ٭ کوئی بھی مجرمانہ ریکارڈ قبول نہیں ٭ ہولوکاسٹ کا انکار ناقابل معافی ٭ کسی بھی دہشت گرد تنظیم میں شمولیت / معاون/اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی وابستگی نہیں ٭ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلےکے بارے میں علم حاصل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا وغیرہ وغیرہ- –

ان شرائط کے ساتھ وہ پاکستانی صیہونیت اختیار کرسکتا ہے اور اس کے افکار کو جہاں تک ہوسکے پہنچانے کا پابند ہے۔ جو پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ صیہونیت کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو نقصان سے دوچار کرنا یا اسلام کے خلاف کسی بھی قسم کی ہرزہ رسائی کرنا ہے تو اس کی سوچ بلکل غلط ہے۔ ہمارا مقصد لوگوں کے اندر آگاہی پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ہم پاکستانیوں کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے ہیں جہاں سے ان کو ایک صحیح، مثبت اور حقیقت پسندانہ اسرائیلی تاریخ و تصویر پیش کی جاسکے۔ پاکستانی قوم کو صیہونیت کے تاریخ کے بارے میں صحیح جانکاری نہیں ہے۔ صیہونیت کے بارے میں اسی اخبار میں چھپا ہوا کالم ” صیہونیت کیا ہے؟” ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے اندر اسرائیل فلسطین مسئلے کو ایک ہی رخ سے دکھایا، پڑھایا اور باور کروایا گیا ہے کہ اسرئیل اور یہودی اسلام، مسلمانوں اور بالخصوص فلسطینیوں کے دشمن ہیں حالانکہ یہ سوچ سواء غلط مفروضوں کے کچھ نہیں ہیں۔ صیہونیت سے نہ کبھی اسلام کو نقصان پہنچا اور نہ کبھی پہنچے گا کیونکہ صیہونیت کا نظریہ پولیٹیکل اشو پر قائم ہے نہ کہ مذہبی معاملے پر۔ رہی بات پاکستان اسرائیل الائنس کے قیام کی تو اس میں دونوں قوموں اور ملکوں کے یکجا ہونے کی جدوجہد کا شامل ہونا ہے نہ کہ ملک کی مذہبی اشرافیہ کو چیلنج کرنا۔

پاکستانی باشعور اور پڑھے لکھے لوگوں کو یہ بات باور کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ نور ڈاہری کا اس تنظیم کے قیام کا مقصد پاکستان یا اسلام کے خلاف کسی بھی قسم کا ظاہری یا مخفی عمل نہیں اور نہ ہی پاکستان کے قومی مفادکے ساتھ کسی بھی قسم کی سودے بازی شامل ہے۔ اس تنظیم کا مقصد بالکل واضح ہے کہ پاکستان کو عربوں کی سرائیل کے 70 سالہ ذاتی اور زمینی دشمنی کی جنگ سے اب باہر آنا چاہیے۔ عرب قوم اس وقت بے مقصد نظریہ دشمنی سے باہر آرہی ہے مگر عرب ممالک کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان جوکہ واحد مسلم نیوکلیئر طاقت ہے کے بلواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی، فوجی، سماجی، معاشی یا نظریاتی تعلقات قائم ہوں جس سے عربوں کی خطہ میں پاکستان کے ذریعہ جو اجاراداری قائم ہے اس کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے۔ عرب ممالک مشرق وسطی کی کوئی بھی جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہیں اور اسی وجہ کو مد نظر رکھ کر وہ ہر جنگ پاکستان کا کندھا استعمال کرکے لڑتے آئے ہیں۔

پاکستانی قوم، حکومت و اسٹیبلشمنٹ کو عرب بلیک میلنگ اور پیٹروڈالر کی گیم سے نکلنا چاہیے اور اپنے قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے چاہیے۔ یہ تعلقات کسی بھی طرح کے ہوں مگر دنیا کے سامنے آنے چاہیں۔ تعلقات کا ماڈل چاہے کسی بھی طرز کا ہو۔ ٭ اردن طرز کے تعلقات ٭ مصر طرز کے تعلقات ٭ ترکی طرز کے تعلقات ٭ چین طرز کے تعلقات ٭ بھارت طرز کے تعلقات۔ یہ فیصلہ پاکستان اپنے قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر سکتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کس قسم کے دوطرفہ تعلقات قائم کرنے چاہیں۔

پاکستانی قوم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے مغربی و مشرقی دنیا کو ایک واضح پیغام دے سکتی ہے کہ یہ قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہونے کی اہل ہے اور ان مثبت تعلقات سے پاکستانی قوم قومی اور بین الاقوامی طور پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ قائم کرسکتی ہے اور یہ تعلقات سرحد پار دہشتگردی پر بھی کنٹرول کرسکتے ہیں۔

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
منجانب: پاکستان اسرائیل الائنس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں