698

پاکستان اسرائیل الائنس کے خلاف پاکستانی میڈیا کی جنگ اور ہمارا موقف

گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستانی پرنٹ اور سوشل میڈیا نے پاکستان اسرائیل الائنس اور اسکی ذیلی اردو اخبار پاک اسرائیل نیوز کے خلاف باقاعدہ طور پر ایک جنگ شروع کردی ہے۔ جس میں ان دونوں اداروں کے خلاف ایک منصوبہ بندی کے تحت میڈیا میں مہم چلائی جارہی ہے۔ اس ادارے کے اراکان کو سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات ارسال کیے جارہے ہیں۔

پاکستان کی پرنٹ اور سوشل میڈیا نے ان اداروں کے اراکان کے نام ، شہر اور تصاویر جاری کرکے ان کو ہراساں کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور ان کے خلاف یہودی ایجنٹ اور غدار کے القاب استعمال کئےگئے ہیں، جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

پاکستان اسرائیل الائنس اور اس کی ذیلی اردو اخبار پاک اسرائیل نیوز ایک تعلیمی ادارے ہیں جن کا مقصد پاکستان کی عوام کے اندر ایک شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کردیں اور امن کا علم بلند کریں۔ اس ادارے کا عزم لوگوں کے اندر انتہا پسندی کے خلاف شعورکو اجاگر کرنا ہے۔

پاکستانی میڈیا نے ان اداروں اور ان کے بانی جناب نور ڈاہری کے خلاف بغیر ثبوتوں کے الزامات کی بوچھاڑ کردی حالانکہ جناب نور ڈاہری اور ان اداروں نے کبھی بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ رسائی نہیں کی۔ ان اداروں کی نیت پاکستان اور اسرائیل کی امن پسند عوام کو قریب لانا ہے کہ جس سے دونوں قوموں اور مذاہب کے درمیاں ہم آہنگی پیدا ہو۔

کئی دنوں سے ادارے کے پاس پاکستان سے ان گنت پیغامات آرہے ہیں اور عوام جوق در جوق پاکستان اسرائیل الائنس میں شمولیت کی خواہاں ہیں۔ پاکستان کی باشعور عوام اس انتہا پسندی سے تنگ آچکی ہے اور اب وہ اس نفرت بھرے ماضی سے نکل کر امن اور محبت پسند مستقبل کی خواہاں ہے۔ اب یہ بات بھی پاکستانی عوام کے علم میں آچکی ہے کہ انہیں اور اسرائیلی عوام کو ایک دوسرے سے قریب کرنے کی خاطر، عصر حاضر میں صرف ایک ہی ادارہ منظر عام پر آیا ہے اور وہ ہے پاکستان اسرائیل الائنس۔

پاکستانی میڈیا کے پاس پاکستان اسرائیل الائنس اور اس کی ذیلی اردو اخبار پاک اسرائیل نیوز کے خلاف الزامات کی کوئی بنیاد نہیں سواء اس کے کہ پاکستانی قوم کے اندر ان اداروں کے خلاف ایک منفی سوچ پیدا کی جائے کہ قوم ان اداروں سے متنفر ہوجائیں اور امید کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹ جائے مگر تاریخ گواہ ہے کہ حق اور سچ کو کسی طور پر بھی دبایا نہیں جاسکتا۔
پاکستان کی باشعور قوم جاگ گئی ہے اور ان کو اس بات کا شدید احساس ہوگیا ہے کہ دنیا میں ترقی کرنی ہے تو پرانے دشمنوں کے ساتھ دوستی اور ہم آہنگی کی بنیاد پر تعلقات استورا کیے جائيں۔ پاکستان کی قوم اس منفی سیاست سے باہر نکلنا چاہتی ہے اور وہ کسی حد تک اس میں کامیاب ہوچکی ہے۔

پاکستان اسرائیل الائنس کا ادراہ کبھی بھی پاکستان کی سلامتی کا سودا نہیں کرے گا اور نہ پاکستان کی دشمن تنظیموں کا ساتھ دیگا۔ پاکستانی میڈیا نے ان اداروں پر بلوچستان لبریشن آرمی کے ساتھ ملی بھگت کا جو الزام لگایا ہے وہ سرار جھوٹ پر مبنی اور من گھڑت الزامات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

اسرائیل ایک حقیقت ہےجیسے پاکستان ہے اور وہ دنیا کا ایک ترقی یافتہ ملک ہے، اس کو تسلیم کرنے میں پاکستان کی بھلائی اور استحکام ہے، اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی قوم کی کھوئی ہوئی ساکھ اور گرتا ہوا مقام واپس حاصل ہوگا۔ جن اسلامی ممالک (مصر، ترکی اور اردن) نے اسرائیل کو قبول کیا ہے ان کی دنیا میں ایک عزت اور وقارہے۔ مملکت اسرائیل کو تسلیم کرنے میں نا کوئی سیاسی حماقت ہے ، نا مذہبی قباحت اور نہ ہی ملکی سطح پر کوئی خطرہ۔

پاک اسرائیل نیوز کی پاکستانی ٹیم بشمول فاران جعفری، فرخ بن صغیر اور مولانا خلیل الرحمن الرحیمی پاکستان دوست اور پاکستان کے وفادار شہری ہیں اور پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ان شا ءاللہ

پاکستان اسرائیل الائنس کا ادراہ امید کرتا ہے کہ پاکستانی کی امن پسند عوام امن اور محبت کے دشمنوں کی ان چالوں کو ناکام بنائے گی اور یہ ادارہ پاکستانی عوام کی تعلیمی تربیت اور شعوری نشو نما کے اس کام کو جاری وہ ساری رکھے گا۔ ان شا ءاللہ

اللہ تعالی پاکستان اور اس کی عوام کا حامی و ناصر ہو، آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں