392

پھر یہودیوں کی سازش – عرفان ملک

ایک سوال کے جواب میں خاموشی پر دوست نے پھبتی کستے ہوئے کہا “تم ایک دائرے میں رہنے والے صحافی ہو کراچی اور پاکستان کی صحافت سے باہر نکلو تو کچھ کہنے کے قابل ہو سکو گے

بقول حضرت غالب
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

آپ جتنے بڑے اور (شعوری طور پر) جس قدر روشن ہوتے جاتے ہیں, آپ کو اتنا ہی دائرے میں رہنا پڑتا ہے , سورج اگر لمحے بھر کو بھی اپنے دائرے (مدار) سے نکلے تو دنیا لحظے بھر میں تباہ و برباد ہو جائے۔
دریا مختصر ہوتا ہے پھر بھی شور بپا کیے رکھتا ہے سمندر وسیع تر ہونے کے باوجود خاموش ہوتا ہے, ایسی بلندی کا کیا کرنا جس میں گدھ کی طرح اپروچ (نظر) محض زمین پر پڑے مردار کو ڈھونڈتی پھرے, سارا جسم چھوڑ کر صرف زخم پر فوکس دو ہی طرح کے لوگ کر سکتے ہیں, مکھی صفت یا طبیب طبیعت۔
مولوی زندگی کے سب سے پر مسرت لمحے کے وقت خطبہ نکاح بھی پڑھاتا ہے اور جنازے میں بھی اس ہی کی ضرورت رہتی ہے, ایک ہی وقت میں بندوق سے نکلی گولی کسی کی جان لے رہی ہوتی ہے تو کسی کی زندگی محفوظ بنا رہی ہوتی ہے, حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا متضاد ہوتا ہے , ہر شے کا الٹ ہوتا ہے, بعض معاملات میں بولنا ناگزیر ہو جاتا ہے اور اکثر موقعوں پر خاموشی کارگر ثابت ہوتی ہے۔

نماز ہم مسلمان پڑھتے ہیں مگر جھکنا چائینیز نے سیکھا اور آج سب سے آگے بڑھ گئے, ایمان کا تعلق جھکنے سے نہیں جھک جانے سے ہے ۔

“میری مراد نیت پر مبنی ہے” ہم مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے خلاف کچھ بھی ہو جائے انھیں بھارتیوں اور یہودیوں کی سازش گردانا جاتا ہے, ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دور دور تک دیکھا جاتا ہے ذرا سی گردن جھکا کر گریبان کی جانب دیکھنے کو زحمت جانا جاتا ہے, خاموش ہو جانا, جھک جانا, پیچھے ہٹ جانا کوئی شرم کی بات نہیں ہوتی, بھارتی اور یہود و ہنود کیا کرتے ہیں اب یہ سوچنا بند کرنا ہوگا, ضرورت اس امر کی ہے کہ اب خود پر غور کر لیا جائے اور طے کیا جائے ہمیں ‘تبدیلی’ کو صرف نعروں تک محدود رکھنا ہے یا اپلائی بھی کرنا ہے ؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں