231

کیا اسرائیل بین الاقوامی قانون کے مطابق قائم ہوا تھا؟

جی ہاں۔ فلسطین میں یہودی لوگوں کے ایک قومی وطن کے قیام کے بارے میں سب سے پہلے 1917ء میں معاہدہئ بالفور میں غور کیا گیا تھا اور پھر 1922ء میں لیگ آف نیشنز نے (جو اقوامِ متحدہ کی پیش رَو تھی) “فلسطین کے ساتھ یہودی لوگوں کے تاریخی تعلق”اور اس ملک میں اپنے قومی وطن کی تشکیلِ نو“ کی بنیاد پر پُر زور انداز میں اس کی منظوری دی تھی۔

1974ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد 181 منظور کی، جس کے تحت انتدابِ فلسطین کو ”آزاد عرب اور یہودی ریاستوں“ میں تقسیم کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ فلسطین میں یہودیوں کے قائدین نے اقوامِ متحدہ کا منصوبہ قبول کر لیا تھا حالاں کہ یہودی ریاست کی سرحدوں کا تعین اس کی سلامتی کا لحاظ رکھے بغیر کیا گیا تھا، یہ سرحدیں واقعتاً ناقابلِ دفاع تھیں اور بہت سارا صحرا شامل کر دیا گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادِ تقسیم میں ”ریاستِ اسرائیل“ کے الفاظ 27 مرتبہ استعمال کیے گئے تھے۔

تقسیم کے منصوبے نے فلسطین کے عربوں کو بھی ایک ریاست اور خود اختیاری کا موقع دیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ فلسطینی قائدین اور وسیع تر سطح پر عرب دنیا نے اقوامِ متحدہ کی تجویز رد کر دی اور اقوامِ متحدہ کی تخلیق کردہ نو زائیدہ ریاستِ اسرائیل کے خلاف جنگ چھیڑ دی (اور ہار گئے)۔ 1949ء میں اقوامِ متحدہ نے دو تہائی اکثریت سے اسرائیل کو مکمل رُکن تسلیم کر لیا۔ اگر عرب دنیا نے 1947ء ہی میں تقسیم کا منصوبہ تسلیم کر لیا ہوتا تو آج فلسطین کو قائم ہوئے 69 سال ہو چکے ہوتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں