263

کیا اسرائیل فلسطین کے ساتھ امن قائم کرنا چاہتا ہے؟

جی ہاں۔ اسرائیل امن کا خواہاں ہے لیکن امن سلامتی کے ساتھ۔ اسرائیل فلسطینیوں اور اپنے تمام ہمسایوں کے اتھ پُر امن تعلقات چاہتا ہے لیکن وہ قومی خود کشی نہیں کرے گا۔ تمام اسرائیلی کہتے ہیں کہ اسرائیل کے ہمسایوں کو اسرائیل کے شہریوں کا امن سے جینے کا حق تسلیم کر لینا چاہیے۔ نہ تو راکٹ مزید ہونے چاہئیں نہ دہشت گردی کی سرنگیں اور نہ خود کش بمبار۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوششیں کیسے کیں؟

اسرائیل مذاکرات کے ذریعے دو ریاستوں والے حل …. دریائے اردن اور بحیرۂ روم کے درمیان چھوٹی سی پٹی کو متفقہ طور تقسیم کر کے اسرائیل کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کا قیام …. کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے کوششیں کر چکا ہے لیکن اسرائیل یہ قبول نہیں کرے گا کہ اسرائیل کی جگہ یا اسرائیل کے ساتھ جنگ کر کے فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
حالیہ زمانے میں اسرائیل تین مرتبہ غربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی راست اور اربوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد کی پیش کش کر چکا ہے، اس فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو گا۔ اسرائیل امن معاہدے پردستخط کرے گا اور جونہی فلسطینی قائدین اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کرں گے اور اس کا امن کے ساتھ قائم رہنے کا حق مان لیں گے، متنازع علاقہ واپس کر دیا جائے گا۔

ہر فریق امن سے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین امن کے لیے دو ریاستی حل بہترین حل کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف دو ریاستی حل ہی تین چیزوں کا حل ہے۔

اول، دو ریاستی حل فلسطینیوں کی اپنی ریاست کی ضرورت کا حل پیش کرتا ہے جس میں وہ ایک قوم کی حیثیت سے اپنا قومی خوداختیاری کا حق استعمال کر سکیں: یہ فلسطین کو تخلیق کرتا ہے۔

دوم، دو ریاستی حل، اور صرف دو ریاستی حل، یہودی لوگوں کی ایک وطن کی ضرورت کا حل بھی پیش کرتا ہے، ایک ایسا مقام جہاں وہ ایک قوم کی حیثیت سے اپنے قومی خود اختیاری کے حق کا اظہار کر سکیں: یہ اسرائیل کو محفوظ رکھتا ہے۔

سوم، دو ریاستی حل، اور صرف دو ریاستی حل اس حقیقت کا سامنا کررہا ہے کہ دونوں اقوام ایک ہی تنگ پٹی میں اپنے اپنے حقِ خود اختیاری پرعمل کر سکیں۔
ایک صورت تو یہ ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو نکال باہر کرے اور پورے علاقے پر قبضہ کر لے …. جو بڑے پیمانے پر انسانی ابتلا کے بغیر ناقابلِ حصول ہے، لیکن افسوس دونوں جانب کے انتہا پسندوں کا خواب یہی ہے ….واحدمتبادل یہ ہے کہ علاقے کو مذکرات کے ذریعے تقسیم کر لیا جائے۔

یونیورسٹی میں اسرائیل فلسطین مباحثے کو ہالی وڈ کی مووی کے طور پر لیا جاتا ہے، اچھے اور برے کرداروں کے ساتھ۔ حقیقی دنیا زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہی علاقے پر دو جائز دعؤوں کا حل یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے قانونی وجود کو تسلیم کریں، اذیت بھرا سمجھوتہ کریں، دو طرفہ سلامتی کی ضمانتیں دی جائیں، علاقے کو دو ریاستوں میں تقسیم کیا جائے اور پُر امن بقائے باہمی سے رہا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں