166

کیا یہودیوں نے 1948ء میں ”فلسطینیوں کی نسل کشی“ کی تھی؟

عربوں کی طرف سے تقسیم کا منصوبہ ردکیے جانے کے فوراً بعد خانہ جنگی چھڑ گئی اور عربوں نے ایک چھاپہ مار فوج بنا کر یہودیوں پر حملے شروع کر دیے۔ دونوں جانب سے مظالم کا ارتکاب کیا گیا۔ دیر یاسین میں یہودی فوج کی جانب سے کیے گئے ظلم کے چند دن بعد ہی عربوں نے ماؤنٹ سکوپس جانے والے 78 اساتذہ، ڈاکٹروں اور نرسوں کو ہلاک کر کے ظلم کا ارتکاب کیا۔ اس کے چند ہفتوں بعد، اسرائیل کی طرف سے آزادی کا اعلان کیے جانے سے ایک دن پہلے، کفر عتزیون میں 127 یہودی مرد و خواتین کو ہتھیار ڈالنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا۔

1948ء میں انگریزوں کے جانے اور اقوامِ متحدہ کی تقسیم کی قرارداد کے مطابق یہودیوں کے اسرائیل کے قیام کے اعلان کے فوراً بعد پانچ عرب ملکوں کی افواج نے ریاستِ اسرائیل کو ابتدا ہی میں کچل ڈالنے اور یہودیوں کو سمندر میں دھکیل دینے کے ارادے سے حملہ کر دیا۔ فلسطین کے یہودی جواباً لڑائی کرنے پرمجبور ہو گئے۔ انھوں نے ہولوکاسٹ کے صرف تین سال بعد اپنی بقا کے لیے دفاعی جنگ لڑی تھی۔

نومبر 1949ء سے مارچ 1949ء میں جنگ کے اختتام تک کے درمیانی عرصے میں تقریباً 750,000 فلسطینی عرب اپنا گھربار چھوڑ کر چلے گئے اور پناہ گزیں بن گئے۔ جنگ جاری تھی جس کی وجہ سے ان کے چلے جانے کا سبب بننے والے عوامل پیچیدہ تھے۔ مؤرخ بینی مورِس اپنی مفصل اور نہایت مقبول کتاب میں لکھا ہے کہ “فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ نہ تو یہودیوں اور نہ ہی عربوں کی سازش کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا بلکہ اس کی وجہ جنگ تھی” (زور دیا گیا ہے)۔ یہ اس معاملے کا مرکزی نکتہ ہے۔ مورس لکھتا ہے، ”یہ مسئلہ بڑی حد تک یہودیوں اور عربوں کے خوف کے علاوہ طویل اور تلخ پہلی اسرائیل عرب جنگ کا نتیجہ تھا۔“ اس تنازعے کے دوران اسرائیل کے اعلانِ آزادی میں اسرائیل کی حدود میں رہنے والے تمام عربوں کو مکمل شہریت اور مساوی حقوق دیے گئے۔ جنگ کے بعد اسرائیل میں رہ جانے والے 150,000عربوں کو مکمل شہریت دے دی گئی تھی۔ 1949ء میں عرب بھی اسرائیل کی پہلی پارلیمان کے رُکن منتخب ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں