1,211

ہنرمند پاکستان اور تعلیم یافتہ اسرائیل از مولانا خلیل الرحمن الرحیمی

اسوقت دنیا کو نوجوان قیادت کی ضرورت ھے، اور پاکستان اور اسرائیل دنیا کی خفیہ سپر پاور بن چکے ہیں، مگر میں سمجھتا ہوں قوت اور طاقت کا توازن ہونا چاہئے، جبکہ دونوں ممالک میں سے ایک کے پاس قوت ہے دوسرے کے پاس طاقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

میرا بیٹا ابراہیم اکثر کہا کرتا ہے کہ تعلیم مستقل ہما جہت قوت ہوا کرتی ہے اور ہنرمندی یک طرفہ عارضی طاقت ہوا کرتی ہے، اور واقعی میرا مشاہدہ بھی یہی کہتا ہے، دراصل دونوں ممالک کے وجود میں آنے پر عظیم قربانیاں اور داستانیں وجود میں آئیں، فرق صرف اتنا ہے کہ اسرائیل نے وہ یاد رکھیں اور پاکستانی بھول گئے، اسی لیے پاکستانی بچہ ارد گرد کے ماحول سے کوئی ہنر سیکھ کر کندن نما یک طرفہ طاقتور بن کر روزی کی تلاش میں مصروف ہو جاتا ہے مگر اسرائیلی بچہ اسی چھوٹی سی عمر میں فزیکل، نیؤروجیکل، اسپرچوئل، تعلیمات اور انفارمیشن کے ماخد کی معلومات حاصل کرکے عالمی فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

درحقیقت پاکستان میں تعلیمی فقدان پر اسکی وجہ کوئی گروہ نہیں بلکہ تعلیم کی اہمیت سے بےخبری ہے، تعلیم کے نام پر کچھ بھی بتا دیا جائے تو اسکو تعلیم سمجھ بیٹھتے ہیں ، آج کے پاکستان میں بسنے والے اُن لوگوں کی اولادیں ہیں، جن مسلم اور غیر مسلم گروہوں کا بھارت میں جینا مشکل کردیا گیاتھا، جنہوں نے شہروں سے جنگلوں کا رخ کرنے کے بعد پاکستان کے وجود پر لاکھوں جانیں دےکر ہجرت کی تھی، مسلسل تین سو سال خانہ بدوشی کے سفر کرنے والے اپنا روزگار اپنے ہاتھ کے ہنر میں تلاش کرتے تھے، ہنر کی اہمیت نے نسلوں میں جگہ بنا رکھی تھی، تعلیم اور تمام علوم کے ناموں سے بھی بے خبر تھے، زندگی کا لطف اٹھانے کے بجائے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے رہے، آج اسی لیے دنیا بھر میں ھارڈوئیر کے کاموں میں پاکستانی کو فوقیت حاصل ہے۔
اسی طرح اسرائیلی قوم نے علوم کےحصول پر ہر ممکن کوشش کر کے دنیا کے اکثر علوم پر دسترس حاصل کی، اور دنیا بھر سے اسرائیلی تعلیم یافتہ لوگوں کو مدعو کرکے وطن کے لئے خدمات حاصل کی گئیں، اسرائیل میں ہر پیدا ہونے والے بچے کو اسکے پیدا ہونے سے بھی پہلے اسکی ماں کو ایک تعلیمی سسٹم سے گزارا جاتا ہے، جسکے اثرات بچہ کے ذہنی نشونما پر نقش ہوجاتے ہیں، شادی کے ہر عمل کو ایک خاص زاویہ میں پرویا جاتا ہے، انٹرکورس کے عمل کو ایک خاص ادارے کے زیر نگرانی ترتیب دیا جاتا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کو نئی زندگی کی شروعات ایک کام سے زیادہ مشکل لگنے لگتی ہے جبکہ اس عمل سے گزرنے کا والدین کو معاوضہ دیا جاتا ہے کیونکہ نو مولود بچہ کو گورنمنٹ کا اثاثہ تصور کیا جاتا ہے، ماں کے پیٹ میں نو ماہ کا دورانیہ ایک تعلیمی سسٹم سے کم نہیں ۔

ایک عجیب لاجواب کورس کے بارے میں پڑھ کر اس قوم پر رشک آنے لگتا ہے، دن میں تین گھنٹے سننے اور بولنے پر مشتمل ، جانوروں کی آوازوں کے ساتھ مختلف علوم کا نام اور مختصر تعارف اور آوازوں کا اتار چڑھاؤ اور ریاضی کے مشکل سوالات دہرائے جاتے ہیں، نیؤروجیکل، اسپرچوئل گفتگو کروانا اور بچے کو مخاطب کرکے بار بار بلانا اور رات کو نیند میں ایک گھنٹہ لسنگ دھمی آوازوں کا اتار چڑھاؤ ریلیکس موڈ میں کروایا جانا ہے، نومولود بچہ روزانہ کی بنیاد پر لسنگ میٹیریل جس سے بچہ لطف اندوز ہوکر کھیلتا بھی رہے اور لیڈی ٹیچر سے مانوس بھی ہو جائے، بچہ کی خوراک اور کھلونے بھی تعلیم کے حصے میں شامل کیا گیا ہے، گویا کہ نومولود بچہ کو دو سال تک ہوم ٹیوشن میں ہر عمل حتی کہ اسکا دیکھنا اور سننا تعلیم بنا دیا جاتا ہے، عبرانی ، انگلش، عربی، آئی ٹی، بچپن ہی میں سکھا دی جاتی ہے، اسکے بعد کے عمل کے لئے کسی بھی اسرائیلی سکول کا دورہ کیا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی قوم اپنے ملک کے باشندہ کے فوت ہونے پر ایک ہزار لوگوں کے رخصت ہونے کا غم مناتے ہیں، اسرائیلی قوم کا ماننا یہ کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ ذہین ہوتا ہے اُسکا مستقبل اِردگِرد کے ماحول سے پروان چڑھتا ہے، حقیقت تو یہ ہے پاکستانی اور اسرائیلی ایک اللہ کو ماننے والی قومیں ہیں، مابین دو قوموں کے نفرتیں ختم ہونا وقت کی ضرورت ہے میں سمجھتا ہوں دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، اگر اسرائیل کے پاس قوت ہے تو پاکستان کے پاس طاقت ہے اور اگر اسرائیل کے پاس زرعی ٹیکنالوجی ہے تو پاکستان کے پاس زرعی میدان ہے اور اگر اسرائیل کے پاس تعلیم ہے تو پاکستان کے پاس ہنرمندی ہے اور اگر اسرائیل کے پاس جنگ جو دلیر خواتین صف اول میں ہیں تو پاکستان کے پاس جنگ جو مرد صف اول میں ہیں ، اور اگر اسرائیل اپنا نیٹورک اور اسرا ایڈ دنیا کے دوسو ستر ممالک اور نئے بننے والے ممالک میں مہیا کررہا ہے تو پاکستان دنیا کے ایک سو ستر ممالک میں اپنی ذاتی پاکستانی مین پاور لاکھوں کی تعداد میں جسمانی وجود رکھتا ہے، اور اگر اسرائیل ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سوشل میڈیا کا ماخد ہے تو پاکستان اسکا خریدار اور یوزر ہے۔

اِھرد ہم اُدرھر تم کا نعرہ غلط وقت اور غلط جگہ کیلئے لگایا گیا تھا، جبکہ اسکی ضرورت پاکستان اور اسرائیل کے لئے موضوں تھی، اب پاکستان اور اسرائیل دو قوموں کے مابین نفرتیں ختم کرنے کی کامیابی کیلئے نتیجہ خیز کاوشیں سرانجام دینا ہونگی، اگر تعلیم و ہنر،اور قوت اور طاقت کا اشتراک ہوجائے تو گلوبل ولیج یکتا پرستوں کے پاس ہوگا، یروشلم تینوں مذاہب کے لئے مرکزی سر چشمہ ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مطالبے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنےکیلے اہم ترین کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں