1,085

یروشلم کس کا؟از نور ڈاہری

جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دیا ہے تب سے دنیا میں اس کی شدید مذمت شروع ہوچکی ہے اور سوشل، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ یروشلم اصل میں کس کا ہے؟

مغربی ممالک نے امریکی صدر کے اس اقدام پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور اس اقدام کو شرانگیزی قرار دیا ہے، یہاں ایک بات کرتا چلوں کہ مغربی مالک نے صرف اس اقدام پر نکتہ چینی کی ہے کہ اس فیصلہ سے مشرق وسطی میں حالات معمول کے مطابق نہیں رہیں گے اور اس سے شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں مگر انہوں نے یہ کہیں بھی نہیں کہا کہ یروشلم کا اسرائیل یا یہودی قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مخالفت صرف اور صرف مسلم قوم کی طرف سے آرہی ہے۔

اس با ت میں کوئی شک نہیں کہ اس فیصلے سے امن امان کی کوششوں کو دھچکہ لگا ہے مگر یہ صرف فی اوقت کی بات ہے، ہر چيز معمول کا قصہ بن جائے گی کیونکہ مخالفین کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ یہ دارالخلافہ اسرائیل کا نہیں ہے مگر ان کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ وہ شرانگیز کاروائیاں کریں اور ہر طرف فتنہ اور فساد شروع کردیں۔

میں اس بحث کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہیں کروں گامگر اپنے پاکستانی و ہندوستانی اردو دان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو اس مقام اور ان کی اصل قوم کے ساتھ تاریخی اور مذہبی وابستگی ظاہر کروں گا۔ ان شاءاللہ

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یروشلم کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور اس تاریخ کا یہودی قوم کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اب چاہے یہ تعلق سیاسی ہو، تاریخی ہو یا پھر مذہبی، ہر لحاظ سے یروشلم پر ان کی فوقیت ہے۔ اس کے بعد یروشلم پر تاریخی اور مذہبی اختیار عیسایوں کا ہے جہاں حضرت عیسی علیہ اسلام کا تعلق رہا ہے اورادھر سے ان کی موت و آسمان پر اٹھنا بھی تاریخ و مذا ہب سے ثابت ہے۔

اب رہی بات مسلمانوں کی تو، مسلمانوں کا یروشلم سے صرف اس حد تک ہے کہ وہاں سے نبی آخرزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں کا سفر (معراج) کیا تھا، اس سے زیادہ اور کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ سیاسی، نہ تاریخی اور نہ مذہبی۔ اولین مسلمانوں نے یروشلم کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور پھر یہ حکم بھی ساقط ہوگیا اور قبلہ مکہ المکرمہ قرار دیا گیا اور جو آخری مذہبی وابستگی تھی وہ بھی ختم کردی گئی۔ اگر مسلمان یروشلم پر صرف اسی وجہ سے اپنا حق تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ان کا قبلہ اول تھا تو یہ حق اسلام شروع ہونے کے کئی سال بعد ختم کردیا گیا تھا۔

یہاں دو باتیں ذکر کرنا پسند کروں گا، پہلی یہ کہ: اللہ تعالی نے مسلمانوں کو یروشلم ہی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا؟ کیونکہ وہاں یہودیوں کا قبلہ اول سے موجود تھا یہ اور بات ہے کہ وہ ڈھادیا گیا تھا مگر یہودی اس طرف رخ کرکے عبادت کرتے تھے اور کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ قبلہ اللہ تعالی کے حکم سے حصرت داؤد علیہ سلام اور حضرت سلیمان علیہ سلام نے بنایا تھا اسی وجہ سے اس قبلہ کی اہمیت رب تعالی کے ہاں اتنی تھی کہ مسلمانوں کو بھی حکم دیا کہ اس قبلہ کی طرف منہ کریں اور یہودیوں کے قبلہ کی اہمیت کو نہ صرف قبول کریں بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم کریں۔

دوسری یہ کہ: اللہ تعالی نے نبی آخرزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب حجاز سے یروشلم کا سفر کیوں کروایا اور وہاں سے ہی معراج پر کیوں لے گئے، رب تعالی تو ان (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے گھر سے ہی معراج پر لے سکتے تھے، دوسرے پیغمبروں کو ان کے گھر پر اترنے کو بھی کہ سکتے تھے، آخر کیا وجہ تھی کہ یروشلم کا سفر کروایا گیا؟

میری ناقص عقل کے مطابق رب سبحان و تعالی نے نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شہر کی اہمیت اور ان کے قبلہ کی اہمیت کا اندازہ لگوانا تھا کہ یہ شہر رب سبحان و تعالی کے نزدیک کتنی اہمیت کا مقام رکھتا ہے۔ (واللہ اعلم) سب سے اہم بات یہ کہ نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پتھر پر اپنا پاؤں مبارک رکھ کر براق پر چڑھ کے معراج کا سفر کیا تھا اور وہ پتھر یہودیوں کے قبلہ کا ہے اور اس مقام پر اس وقت مسجد الصخرہ (ڈوم آف دی راک) موجود ہے، اسی وجہ سے اس پتھر کو “ڈوم آف دی راک” کہا جاتا ہے کہ وہاں ان کے قبلہ کا پتھر رکھا ہوا ہے یہاں مسلمان تو جا سکتے ہیں مگر یہودیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

میرے ناقص علم کے مطابق نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اور کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ یروشلم مسلمانوں کا ہے، یا مسلمانوں کو فتح کرنا ہے یا پھر اس کے بارے میں کوئی بشارت دی گئی ہے۔ حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ “جو لشکر قسطنطنیہ (ترکی) کو فتح کرے گا وہ لشکر اور اس کا امیر جنت میں داخل ہونگے” ، مگر کہیں بھی یہ بشارت یروشلم کے لیے نہیں دی گئی ہے اور نہ مسلم خلیفوں کے لیے اس کو فتح کرنا کوئی بڑی اہمیت رکھتا تھا، فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا تو راستے میں یروشلم کی باری آگئی اور اس کو بھی ان فتوحات میں شامل کردیا گیا وگرنہ اس کی کوئی خصوصی طور پر پلاننگ نہیں تھی کہ ” یہ ہمارا قبلہ اول ہے اس لیے پہلے اس کو فتح کرو” یا پھر “ادھرسے ہمارے نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر کیا ہے اس لیے اس شہر کو اسلام کا قلعہ ہونا چاہیے”، نہیں ایسی کوئی بات اسلامی تاریخ میں ثابت نہیں ہے۔

اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس شہر کو فتح کرکے اس میں داخل ہوئے تو ان کو اس جگہ لے جایا گیا جہاں نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر کیا تھا، انہوں نے جب اس پتھر کو دیکھا جہاں سے نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم معرج کی طرف راونہ ہوئے اور پوچھا کہ “یہ پتھر کس چيز کی علامت ہے” تو جواب دیا گیا کہ “یہ پتھر یہودیوں کے کعبہ کاہے”۔ اس موقع پر کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ بھی یہاں نماز پڑھیں تو انہوں نے یہ کہ کر ادھر نماز پڑھنے سے انکار کردیا اور کہا کہ “اگر میں نے یہاں نماز پڑھی تو مسلمان میرے بعد ادھر نماز پڑھنا شروع کردیں گے اور ادھر مسجد بنادیں گے”، اور انہوں نے کچھ دور جاکر نماز پڑھی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس مقام پر جہاں عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی تھی ایک مسجد بناڈالی جو اس وقت بھی مسجد عمر کے نام سے وہاں موجود ہے۔

اب ذرا سوچنے کی بات یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں نماز پڑھنے کی کوشش کیوں نہیں کی حالانکہ ان کو معلوم تھا کہ یہاں سے نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم نے معرج کا سفر کیا تھا؟ کیونکہ وہ اچھی طرف جانتے تھے کہ اس جگہ پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہے اور نہ یہ جگہ مسلمانوں کی ملکیت ہے مگر اس جگہ پر صرف اور صرف یہودی قوم کو حق ہے جن کا یہاں کعبہ موجود تھا۔

آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو کہیں بھی یہ نہیں ملے گا کہ عمر رضی اللہ نے پھر کبھی یروشلم کا رخ کیا یا پھر حضرت عثمان رضی اللہ ادھر کبھی گئے حالانکہ یروشلم پر مسلمانوں کا قبضہ تھا، نہ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اور نہ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی یروشلم کا قصد کیا حالانکہ نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ حکم ان کے سامنے موجود تھا کہ “اگر کسی مسجد کا قصد سفر کرو تو تین مساجد کا کرو، مسجد حرام، مسجد نبوی اور بیت المقدس”، اگر جانا ضروری ہو تو۔ یروشلم سفر کرنے کی اہمیت اتنی بڑی نہیں تھی، اسی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کسی جلیل قدر خلیفہ المومنین نے ادھر کا قصد کرنا گوارا نہیں کیا۔

اب بات کرتے ہیں مسجد اقصی اور ڈوم آف دی راک بناوانے کی تو یہ عمل اموی خلیفہ عبد المالک کا ہے اور عبد المالک کو کون نہیں جانتا ، یہ وہی خلیفہ ہے جس کے حکم سے حجاج بن یوسف نے بمباری کرکے کعبتہ اللہ کو ڈھا دیا تھا، اسی عبد المالک کے حکم پر حجاج بن یوسف نے جلیل القدر صحابی حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ جن کے پھوپھا نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم تھے کو شھید کرکے ان کی لاش کعبہ کے گیٹ پر لٹکادی تھی ۔

اسی عبد المالک نے یروشلم میں مسجد اقصی بنوائی اور ڈوم آف دی راک پر گنبذ بنوادیا اور اس کو اسلامی ملکیت میں داخل کردیا اور اسی ڈوم آف دی راک کو اب “قبتہ الصخرہ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے، جس کی ملکیت پر مسلمانوں نے اب تک لاکھوں لوگوں کا خون بہایا اور جہاں اب یہودیوں کا جانا، اس کے آس پاس توریت پڑھنا یا پھر کوئی دعا پڑھنا بھی ممعنوع ہے یہاں تک کہ کسی بھی یہودی کا اس قبتہ الصخرہ یا مسجد الاقصی کے آس پاس گذر ہو تو اس کا ادھر اپنے لب ہلانا بھی ممنوع ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے اور کیا یہ اقدام انصاف پر مبنی ہے؟ اگر یہ شرظ مسلمانوں لگادی جائے تو وہ کیسا محسوس کریں گے؟

عبدا لمالک نے اس جگہ کے اوپر مسجد بناوئی جہاں عمر رضی اللہ عنہ نے نماز تک پڑھنے سے انکار کردیا۔ کیا کسی صحابی میں اتنی جرئت نہیں تھی کہ وہاں مسجد القصی بناتے، یا پھر اس ڈوم آف دی راک جس پر نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں مبارک رکھ کر معراج مبارک کا سفر کیا تھا ایک مسجد بنوادیتے یا پھر کم از کم اس پتھر کے اوپر ایک گنبذ ہی بنوادیتے مگر اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کسی بھی قسم کی حرکت کسی صحابی نے نہیں کی بلکہ اس ظالم اسلامی خلیفہ نے کی جس نے مکہ الکرمہ کی تقدس کا بھی خیال نہیں کیا جہاں خون بہانا بھی منع ہے، جس نے کعبہ اللہ کی شان و عظمت کی بھی پرواہ نہیں کی اور اس پر بمباری کرواکر اس کو ڈھا دیا۔

افسوس کہ آج کے مسلمان اس ظالم حکمران کی سنت پر عمل کرنے اور لاکھوں لوگوں کا خون کرنے پر تیار ہیں مگر نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم یا پھر کسی بھی صحابی یا پھر چاروں خلفا ء الراشدین کی سنت پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ میں یہ بات پورے وثوق، دلیل اور تاریخ کی روشنی میں بیان کررہا ہوں کہ مسلمانوں کا یروشلم پر سیاسی، تاریخی اور مذہبی طور پر ملکیت کا دعوی کرنے کا اختیار نہیں ہے، نہ قرآن کریم کے کسی حکم، نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث یا پھر خلفاء راشدین کے کسی عمل سے ثابت نہیں ہے کہ یروشلم پر مسلمانوں کا حق ہے۔

ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس شہر کی عظمت ہمارے لیے باعث برکت ، باعث مکرم اور باعث افضل ہے اور مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کا مشورہ ہے، نہ کہ حکم کہ ضروری ہی قصد کرنا ہے، جب عمرہ کرنا مسلمانوں پر فرض (حکم) نہیں تو پھر یروشلم حکم یا پھر ملکیت کیسے ہوسکتا ہے؟!

اگر یروشلم پر کسی اور قوم کا مذہبی، تاریخی یا پھر سیاسی حق ہے تو وہ قوم عیسائی ہیں مگر کروسیڈز کے بعد انہوں نے کبھی حق نہیں جتوایا اور یہودیوں کے ہاں وہ اس حق کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں۔ اسرائیل کی حکومت نے کبھی بھی مسلمانوں پر یروشلم آنے کی باپندی نہیں لگائی او رنہ کبھی لگائے گا کیونکہ اسرائیل اس مقام کو تینوں مذاہب کے ہاں مقدس مانتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ اسرائیل میں 1.8 ملین اسرائیل مسلمان رہتے ہیں اور ہر سال لاکھوں مسلمان دنیا بھر سے یروشلم کا سفر کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ

یروشلم اسرائیل کا دارالخلافہ ہزاروں سالوں سے تھا اور اسرائیل کے دوبارہ وجود میں آنے کے بعد بھی تھا اور ابھی تک ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تل ابیب اسرائیل کا دارالخلافہ ہے وہ غلط فہمی کا شکار ہے یا پھر حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ تل ابیب میں صرف مغربی سفارت خانے موجود ہیں ، یروشلم اسرائیل کا کیپیٹل اصل سے تھا جب سے اسرائیل بنا ہے۔ امریکی کانگریس نے 1995 میں ایک منظور کی تھی کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دیا جائے جس کو یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995 کہا جاتا ہے ، تب سے لےکر اب تک ہر امریکی صدر اس ایکٹ کو 6 مہینے کے لیے مؤخر کرتا آرہا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس قرارداد کو مؤخر کرنے کی سمری پر دستخط نہیں کیے اور یہ ایکٹ از خود نافظ ہوگیا۔ حالانکہ یروشلم اسرائیل کا دارالخلافہ ہمیشہ سے موجود تھا مگر مغربی ممالک بشمول امریکہ نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا اور اب اس نے تسلیم کردیا۔ اسرائیل کی پارلمینٹ، سپریم کورٹ، ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس ہمیشہ سے یروشلم میں قائم ہیں نہ کہ تل ابیب میں۔ فلسطینیوں نے کبھی بھی نہیں کہا کہ انہیں پورا یروشلم دیا جائے بلکہ وہ اس بات پر بضد تھے کہ صرف مشرقی یروشلم کو فلسطین کا داالخلافہ قرار دیا جائے جہاں مسجد الاقصی بھی موجود ہے۔

تازہ تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل نے 1994 سے لےکر کئی بار فلسطینیوں کو اپنا الگ ملک بشمول مشرقی یروشلم (فلسطینی درالخلافہ) بنانے کی پیشکش کی مگر ان کے لالچی اور نام نہاد لیڈروں نے یہ پیشکشیں واپس ان کے منہ پر ماردیں۔ (اس موضوع پر تحریر کسی اور وقت پر)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ رب کریم اس بابرکت شہر کو امن کا گہوارہ بنائے اور اس کو ہمیشہ اسی طرح قائم و دائم رکھے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں