467

”یہودیوں سے نفرت کرو” (عرفان ملک)

یہ چھٹی صدی کی بات ہے، عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی، ہر سو مسلمانوں کے چرچے تھے، بادشاہت تھی، طاقت تھی، غلبہ تھا، علمیت تھی، بغداد کو وہی مقام حاصل تھا جو آج آکسفورڈ کو یا کیلی فورنیا وغیرہ کو حاصل ہے، سفید لباس لمبے پگڑ اور گھنی داڑھیوں والے تب دہشت کی نہیں علمیت کی علامت سمجھے اور جانے جاتے تھے، ہر سو چہل پہل تھی، لوگ ادھر ادھر آ، جا رہے تھے، ایک تنگ گلی سے ایک بارعب مردانہ آواز، خوبصورت لب و لہجے کا مالک ایک یہودی عالم بازار میں داخل ہوا، پر ہجوم جگہ پر کھڑا ہوا، باآواز بلند نعرہ لگایا اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ”لوگو میں ایک یہودی ہوں ، سلطنت روم سے 3 سوال لیکر آیا یوں جو میرے ان سوالوں کا جواب دے گا میں اس کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں، لوگوں میں تجسس بڑھتا گیا، ہجوم میں ہر دوسرے لمحے اضافہ ہو رہا تھا، شکر دوپہر، گرمی مگر لوگ جوق در جوق اس ”یہودی” عالم کے گرد جمع ہوتے رہے، لوگوں نے سوال کیا کہ اے ” یہودی” اپنے سوال پوچھو، اس دوران بغداد کے مشہور و معروف عالم دین بھی جمع ہو گئے،، یہودی نے کہا کہ بتائو کہ ”خدا سے پہلے کون تھا؟” ہر جانب ایک سکتے کا عالم چھا گیا، کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا یہودی جواب نہ پاکر وہاں سے اٹھا اور اب وہ جگہ جگہ اسی طرح کا مجمع لگاتا رہا اور اپنا سوال دہراتا رہا یہاں تک کہ اس یہودی عالم نے جامع مساجد کا بھی رخ کیا مگر اسے کہیں کوئی جواب نہ ملا۔۔۔۔

میں اس واقعے کو یہیں روکتا ہوں اور ایک دوسرے قصے کی جانب جاتا ہوں۔۔

اس کہانی میں ایک یہودی ہمسایہ امام اعظم ابو حنیفہ کو روز گالیاں دیتا، غصہ اتارتا اور جواب میں امام اعظم بجائے کوئی فتویٰ دینے کے، پھلوں سے بھرا ایک ٹوکرا تحفہ بھجوا دیتے، اسی ”عملی حسن اخلاق” کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن وہ یہودی دشمنی چھوڑ کر آپ کا ”محب” بن گیا۔۔۔
ان 2 واقعات میں لا تعداد سبق چھپے ہوئے ہیں،

آئیے پہلے واقعات سے کچھ نتائج اخذ کرتے ہیں۔۔

کیا آپ تصور تک کر سکتے ہیں کہ آج پاکستان کے کسی پر ہجوم جگہ پر ایک یہودی آئے اور اتنا حساس سوال اٹھائے اور پھر لوگ اسے اتنی ہی توجہ سے سنیں کہ جتنی توجہ بغدادیوں نے دی تھی؟؟؟؟؟
کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ” یہودی” زندہ سلامت واپس جا سکے گا؟؟

کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کسی اور مذہب کے نمائندے کو اپنے مذہب پر بات کرنے کی اسی طرح کی اجازت ہے جیسے دنیا بھر میں ہمیں ہے؟؟
ہماری تبلیغی جماعتیں، مدنی قافلے دنیا بھر میں ٹریول کرتے ہیں لیکن کیا کوئی یہودی و عیسائی وفد پاکستان آ کر اتنی ہی آزادی سے اپنے نظریات و عقائد کا پرچار کر سکتا ہے؟؟
دوسرے قصے سے چند سوال کہ: کیا آپ سوچ بھی سکتے ہیں کہ کوئی یہودی ہمسایہ مولانا فضل الرحمن یا اسرائیل میں بنجامن نیتن یاہو کو گالیاں دے اور گالیاں دینے والے کے ہاتھ پائوں سلامت رہیں؟ یا گالیاں دینے والے کو مذکورہ شخصیات کی جانب سے پھلوں کا ٹوکرا بھیجا جائے ؟

کیا آپ سوچ بھی سکتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری جو کہ کینیڈا میں یہودیوں ہی کے ہمسائے ہیں پر پاکستان میں کوئی یا ایریل شارون پر اسرائیل میں کوئی کیچڑ اچھال دے اور یہ جوابا اسے پھول بھجوائیں؟
یقینا میری طرح آپ کے ذہن میں بھی لفظ ” ناممکن” نمودار ہوا ہوگا۔۔ وجہ؟ وجہ وہ کاہلی و سستی ہے جس نے ہمیں علمی و تعلیمی میدان میں اہل یہود سے کوسوں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔
وجہ؟ وہ سیاسی لیڈرز ہیں جنھوں نے اپنے اہنے مفادات کی خاطر جہاں بھر کو ہم سب کا دشمن بنا ڈالا۔۔۔۔
وجہ؟ جہالت کا وہ اندھیرا جس میں کسی کا چہرہ ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔۔

کوئی ہمیں یہودی ہونے کی بنیاد پر دشمن لگتا ہے تو کسی کو ہم پاکستانی پونے کی بنا پر دہشت گرد لگتے ہیں، کوئی ہمیں محض اسرائیلی ہونے کی وجہ سے ہمارا دشمن محسوس ہوتا ہے۔۔
ہمیں دلائل کا جواب دلائل سے دینا ہوگا، ہمیں امام اعظم کی طرح اپنے عملی اخلاقیات سے متاثر کرنا ہوگا، ہمیں یہودیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی تسلیم کرنا ہوگا
ہم دنیا بھر میں اسرائیل کی ایجادات کو استعمال کرکے دوسرے معنوں میں اسے قبول بھی کرتے ہیں،

نہیں کرتے تو اسرائیل کو قبول نہیں کرتے۔۔۔۔ اس پر بات اگلے مضمون میں۔۔۔۔

عرفان ملک پاکستان کے ٹی وی چینل” نیوز پلس” کے ایک نڈر اینکر پرسن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں