128

یہودی مخالف نسل پرستی اور یوکے کی نسل پرست قوم

یہودی مخالف نسل پرستی ایک گھناؤنا جرم ہے جوکہ نفرت پر مبنی قانون کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی سزا بغیر ضمانت کے جیل ہے۔ یہودی مخالف نسل پرستی آج کل یورپ اور برطانیہ میں عروج پر ہے اور اس کا خیمازہ یہودی قوم صدیوں سے بھگتی آرہی ہے
۔
یوکے دنیا کا تیزی سے بڑھتا ہوں ملک قرار دیا گیا ہے جہاں یہودی مخالف نسل پرستی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

برطانیہ کے سابق چیف ربّی لارڈ جوناتھن سیکز نے معروف امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ میں ایک مضمون لکھا ہے، جس میں اُنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک بار پھر یہودیوں سے شدید نفرت کی لہر اُٹھی ہے۔ اُنہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے: ’’دنیا میں بھی بیشتر سیاست دان اِس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ اِس وقت یورپ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اینٹی سیمیٹزم (یہودیوں سے شدید نفرت) ہے۔ اگر کبھی یہ نُکتہ اُٹھائیے تو اُن کی طرف سے مختصر اور ٹکا سا جواب ملتا ہے کہ اسرائیل کی حکومت نے فلسطینیوں سے جو سُلوک روا رکھا ہے، یورپ میں یہودیوں سے شدید نفرت کا اظہار اُس کا ردِعمل ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت کوئی پالیسی اپنا رہی ہے تو اُس پر ردعمل کہیں اور کیوں؟ اسرائیل کی پالیسیاں پیرس کی کوشر مارکیٹس یا برسلز اور ممبئی کے ثقافتی مراکز میں تو نہیں بنائی جارہی ہیں۔ پیرس، برسلز اور ممبئی میں نشانہ بنائے جانے والے اسرائیلی نہیں، یہودی تھے‘‘۔

امریکی ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘ میں امریکی ریاست مشی گن کے ربّی (اور ایک آئی ٹی اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کمپنی کے صدر) جیسن مِلر کا ایک مضمون ’’اِٹز ٹائم ٹو اسٹاپ اِگنورنگ دی نیو ویو آف اینٹی سیمیٹزم‘‘ کے عنوان سیکز کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’میں اِس پوزیشن میں ہوں کہ یہودیوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر کے خلاف زیادہ قوت سے آواز بلند کرسکوں۔ یہودیوں سے نفرت کی یہ نئی لہر نازی اِزم سے نہیں بلکہ اسلام اِزم سے پیدا ہوئی ہے۔ ربّی سیکز نے بالکل درست نشاندہی کی ہے۔ اکیسویں صدی میں اسرائیل یا اسرائیلیوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا جارہا بلکہ یہودیوں کے خلاف جو نفرت صدیوں موجود رہی ہے، وہی اپنا جلوہ دکھا رہی ہے۔ یہ ویسی ہی نفرت ہے جو ۷۰ سال قبل یورپ میں دکھائی دی تھی اور جس میں لاکھوں یہودی مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کردیا گیا تھا‘‘۔

برطانیہ کے کمیونٹی سروس ٹرسٹ نے ایک حالیہ جائزے میں بتایا ہے کہ ملک بھر میں یہودی مخالف واقعات میں ایک سال کے دوران ۱۰۰؍فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۳ء میں یہ واقعات ۵۱۳ تھے جو ۲۰۱۴ء میں ۱۱۶۸؍ہوگئے اور اِن میں سے ۸۱ واقعات پُرتشدد تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں